ہیں کرنیں ایک ہی مشعل کی بوبکرؓ و عمرؓ عثمانؓ و علیؓ
وہ شمع اُجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میںاِک روز جھلکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میں رحمت کی گھٹائیں پھیل گئیں افلاک کے گنبد گنبد پروحدت کی تجلّی کوند گئی آفاق کے سینا زاروں میں گر ارض و سما کی محفل میں .. لولاک لما کا شور نہ ہویہ رنگ نہ ہو گلزاروں میں یہ نوُر نہ ہو سیّاروں میں وہ جنس نہیں ایمان جسے.. لے آئیں دکانِ فلسفہ سےڈھونڈے سے ملے گی عاقل کو یہ قرآں کے سیپاروں میں جس میکدے کی ایک بوند سے بھی لب کج کلہوں کے تر نہ ہوئےہیں آج بھی … Continue reading ہیں کرنیں ایک ہی مشعل کی بوبکرؓ و عمرؓ عثمانؓ و علیؓ