کرسمس اور مسیحی دنیا سے تعلقات

مولانا محمد اقبال بدوی صاحب جیّد عالم دین ہیں۔آج کل اولڈم انگلینڈ کی جامعہ مسجد کے امام و خطیب ہیں۔صاحبِ بصیرت اور وسیع المطالعہ ہیں۔دلیل کی بنیاد پر کسی موضوع سے اتفاق کرتے اور اختلاف کرنے والوں سے وسعتِ قلبی سے مکالمہ کرتے ہیں۔ کرسمس کے حوالے سے عیسائی دنیا سے کیسے برتاؤ کیا جائے اور ہماری روایتی سوچ دینی نقطہ نظر سے کیا ابہام رکھتی ہے۔ اس پر ان کی وال سے لیا گیا مضمون آپ کے ذوقِ مطالعہ کے لئے حاضر ہے۔ کرسمس کے حوالے سے اپنے پڑوسیوں یا ساتھ کام کرنے والوں کو مبارک کہتے ہوئے عمومی … Continue reading کرسمس اور مسیحی دنیا سے تعلقات

مولانا روم اور بلھے شاہ

اردو ترجمہ اور اسی مضمون میں بلھے شاہ اردو ترجمہ اور اسی مضمون میں بلھے شاہ کلام مولانا روم اردو ترجمہ اور اسی مضمون میں بلھے شاہ کا کلام چه تدبير اي مسلمانان كه من خود را نمي دانم نه تـرسا نه يهودم من نه گبرم نه مسلمانم نه شـرقيّم نه غـربيّم نه بـريّم نه بـحريّم نه ازكـانِ طبـيعيّم نه از افـلاكِ گـردانم نه از خاكم نه از آبم نه از بادم نه از آتش نه از عرشم نه از فرشم نه از كونم نه از كانم نه از هندم نه از چينم نه از بلغار و سقسينم نه از … Continue reading مولانا روم اور بلھے شاہ

نماز میں ہاتھ چھوڑنے کا مسئلہ اجتہادی ہے

نماز میں ہاتھ چھوڑنے کا مسئلہ اجتہادی ہے، اگر کوئی شخص ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز بھی درست ہے۔ مالکیہ کا مشہور مذہب ہے کہ نماز میں ہاتھ کھلے رکھے جائیں گے۔ المدونة (رواية سحنون) میں یہ بات واضح ہے گرچہ مالکیہ کی ایک جماعت کے نزدیک ہاتھ باندھنا زیادہ صحیح ہے۔ اور امام مالک سے بھی ہاتھ باندھنا منقول ہے، اسے امام مالک سے ابن ماجشون اور مطرف وغیرہ نے نقل کیا ہے۔ میرے نزدیک اس مسئلہ میں مالکیہ کے دلائل پر لیبیا کے مالکی عالم ، شیخ محمد عز الدين الغرياني کی کتاب … Continue reading نماز میں ہاتھ چھوڑنے کا مسئلہ اجتہادی ہے

سلطانِ ہند جلال الدین اکبر کا دفاع

ابو رجب الحنبلی اکبر بادشاہ نے ’دینِ الٰہی‘ نام سے کوئی نیا مذہب ایجاد نہیں کیا تھا، بلکہ اس نے جو طریقہ اختیار کیا تھا اسے ایک روش یعنی طریقہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ یہ بدایونی کی گھڑنت ہے کہ اکبر نے “دینِ الہی” نام کا نیا دین ایجاد کیا تھا۔ بدایونی نے بہت مبالغہ کیا ہے الزامات اور جھوٹ میں۔۔ شیخ محمد اکرام کی کتاب ’رودِ کوثر‘ کے اندراجات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ نے ’دینِ الٰہی‘ نام سے کوئی نیا مذہب ایجاد نہیں کیا تھا، بلکہ اس نے جو طریقہ اختیار کیا تھا اسے ایک روش … Continue reading سلطانِ ہند جلال الدین اکبر کا دفاع

ایران تسنن بالخصوص تصوف کا گڑھ تھا

ہمارے ہاں (بلکہ پوری دنیا میں ہی) ایک مغالطہ یہ بھی ہے کہ ایران چونکہ ایک عظیم الشان سلطنت تھی اور مسلمانوں نے اسے ختم کردیا لہٰذا ایرانیوں میں ایک رنجش اور ملال پیدا ہوگیا جس کا نتیجہ ان کی علیحدہ مسلکی شناخت اور نتیجتہً علیحدہ سیاسی گروپنگ کی صورت نکلا۔ سننے میں تو یہ تھیوری بہت تگڑی لگتی ہے اور بڑے معقول لوگ بھی اس پر یقین رکھتے ہیں لیکن تاریخ پر تھوڑا غور کریں تو ہے بہت غلط۔ شروع سے شروع کریں تو سیدنا عثمان رضی اللہٰ عنہ کے خلاف جو تحریک چلی، اس کا مرکز بھی کوفہ … Continue reading ایران تسنن بالخصوص تصوف کا گڑھ تھا

بدترین فرقہ پرست جماعت اہل حدیث ہیں: ڈاکٹر اسرار کے فرقہ وارانہ نفرت پر مبنی رویے

اپنی تقریروں میں ڈاکٹر اسرار احمد نے مختلف مکاتیب فکر پر رکیک حملے کیے ہیں اور ان پر کفر، شرک اور بدعت کے الزامات لگائے ہیں – اب اس تقریر میں ڈاکٹر اسرار احمد اہل حدیث کو نشانہ بنا رہے ہیں – ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ: “میں یہاں عرض کروں گا کہ اہل حدیث تحریک جو ہے وہ بھی ایک زمانے میں بہت زور دار طریقے سے رد بدعات، مشرکانہ اوہام کی نفی کے لیے اٹھی تھی۔ لیکن بہت جلد یہ تحریک صرف چند شعائر تک خود کو محدود کر کے انتہائی تنگ نظر فرقے کی صورت اختیار کر … Continue reading بدترین فرقہ پرست جماعت اہل حدیث ہیں: ڈاکٹر اسرار کے فرقہ وارانہ نفرت پر مبنی رویے

کیا ایرانی یا فارسی النسل لوگ اسلام سے نسلی تعصب رکھتے ہیں؟

بعض متعصب فرقہ پرست خوارج کہتے ہیں کہ ایرانیوں کو اوائل اسلام میں عربوں کی ایران پرفتح کے دن سے آج تک اسلام سے بغض ہے ۔ ان کے لیے عرض ہے کہ اہلسنت کے تقریباً تمام اکابر محدثین بشمول امام بخاری، امام مسلم، ابن ماجہ،نسائی، ترمذی، ابو داؤد اور دیگر ایرانی یا فارسی تھے ۔ آج کے تکفیری خوارج صرف فرقہ پرستی کی وجہ سے ایرانی یا فارسی بولنے والے اہل اسلام کو مجوسی سازشی اور مشرک کہتے ہیں ۔ ترکی میں عثمانیوں اور ایران میں صفیوں کی حکومت کے ادوار میں ذاتی یا خاندانی آمریت کے فروغ کے … Continue reading کیا ایرانی یا فارسی النسل لوگ اسلام سے نسلی تعصب رکھتے ہیں؟

تمام فرقے ایک دوسرے کی احادیث کی کتب سے استفادہ کریں

اتحاد بین المسلمین کا ایک راستہ یہ بھی ہے کہ سنی اور شیعہ ایک دوسرے کی احادیث کی کتب کھلے دل کے ساتھ، تعصب اور عیب جوئی کی خواہش کے بغیر پڑھیں ۔ اہلسنت کی صحاح ستہ تو مشہور ہیں لیکن اہل تشیع کی کتب اربعہ ( چار کتابیں) عام طور پر اوجھل رہتی ہیں ۔ ان چار کتابوں میں بھی کئ احادیث صحیح ہونگی۔ امت کو ان سے بھی راہنمائی مل سکتی ہے۔ پہلے کتابیں تو کتابوں کے قریب لائیے۔ مذاھب اور فرقے بھی قریب آ جائیں گے۔ مشترکات یعنی توحید،قرآن، ختم نبوت اور اہلبیت پر امت کو اکٹھا … Continue reading تمام فرقے ایک دوسرے کی احادیث کی کتب سے استفادہ کریں

عالمی یومِ انہدامِ جنت البقیع – مفتی امجد عباس

نجد و حجاز میں بالخصوص مکہ اور مدینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اسلام کے ابتدائی دور کے بہت سے آثار اور تاریخی مقامات تھے، جنھیں “شرک” کے وسوسے کے پیش نظر مٹا دیا گیا۔ مدینہ منورہ کا تاریخی قبرستان؛ جنت البقیع جہاں خاندانِ نبوت میں سے حضرت عباس، امام حسن، امام زین العابدین، امام محمد باقر، امام جعفر صادق علیھم السلام سمیت ازواجِ نبی اور صحابہ کرام بھی مدفون ہیں، اُس قبرستان پر بھی بلڈوزر چلا کر، بعض قبور پر بنے قُبے گرا دیئے گئے اور قبور کو سطحِ زمین کے برابر کر دیا … Continue reading عالمی یومِ انہدامِ جنت البقیع – مفتی امجد عباس

Tolerance vs Inclusion: Lesson from Neelam Ghar

Dr Jawad Syed In this brief clip from a popular TV show (Neelam Ghar, later renamed as Tariq Aziz show) in 1990s in Pakistan, the host (Tariq Aziz) in simple words explains what many people have a real difficulty in understanding, i.e., the difference between tolerance and appreciation/inclusion. The Urdu/Hindi words that Tariq Aziz uses in his explanation are bardaasht (tolerance) and pasand (liking or appreciation). He says that the essence of democracy is the appreciation (not tolerance) of differences. It’s surprising to see that several leaders and organizations in the world today still describe tolerance as one of their … Continue reading Tolerance vs Inclusion: Lesson from Neelam Ghar