ڈاکٹر علی شریعتی اور مختار مسعود
”خراسان میں دشتِ کاویر کے کنارے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہونے والا غریب لڑکا جب چوالیس برس کی عمر میں انتقال کرتا ہے تو لوگ اسے نظریہ ساز اور عہد ساز شخصیت قرار دیتے ہیں۔ ایک قبیلہِ جاویداں ایسے لوگوں کا ہوتا ہے جو بعد از مرگ بھی اس دنیا کے کام سنوارتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر علی شریعتی کا تعلق اسی قبیلے سے ہے۔“ (مختار مسعود، لوحِ ایام) یہ حسینیہ ارشاد ہے، تہران کا وہ ادارہ جہاں علی شریعتی نے تین برس میں تین سو تقریریں کیں۔ ہر تقریر سننے کے لیے میلوں تک گاڑیوں، سائیکلوں اور پیادہ … Continue reading ڈاکٹر علی شریعتی اور مختار مسعود