Murder in Blackburn: Aya Hachem Was a Shia Muslim, So What?

Danya Jafri (with minor edits) On the 18th May 2020, 19-year-old Aya Hachem was tragically shot dead on her way to get groceries from her local Lidl supermarket in Blackburn, UK. The Muslim community has been mourning the death of Aya, a law student, who has been described as “truly remarkable”. And the response to her life lost? Outrage. Outrage not just for the unnecessary and tragic death of a young girl who had her entire life ahead of her, but rather outrage against an undying flame of ignorance. Outrage has broken out on social media as some Takfiri (who … Continue reading Murder in Blackburn: Aya Hachem Was a Shia Muslim, So What?

Hadith: Discussion of validity and authenticity

Background Because hadith is “the basis for most” Islamic laws and codes “at the detailed level”, which pertain “to people’s life, honour and property”, and because many (especially revivalist and conservative Muslims) consider these not just inspirational or informational but laws “sacrosanct or immutable Shari’ah” to be enforced, and because to others (especially modernist and liberal Muslims) the laws thus developed are “contrary to the intent and spirit of the Qur’an and Islam’s fundamental commitment to justice and fairness”, the “problem of the authenticity of the Sunnah” or hadith has become an issue for those (especially modernist and liberal Muslims) … Continue reading Hadith: Discussion of validity and authenticity

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی فکر انگیز یاد دہانی

فرقوں، فقہوں، مسالک کی مناظرانہ بحثوں کی بجائے توحید، قرآن، ختم نبوت اور اہلبیت و آل محمد صلی الله علیہ والہ وسلم کے مشترکات پر اکٹھے ہو جائیں – اختلافات کو شائستگی، باہمی احترام اور محبت کے ساتھ قبول کریں، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی بجائے اسلام اور انسانیت کی خدمت کریں Continue reading ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی فکر انگیز یاد دہانی

ہم کہاں کھڑے ہیں؟ – حافظ صفوان

جوں جوں عمر بڑھی ہے توں توں جن چیزوں کے معاملے میں بالکل واضح سمجھ آنا شروع ہوئی ہے ان میں کا ایک نظامِ تعلیم اور ذریعۂ تعلیم بھی ہے۔ نظامِ تعلیم صرف وہی چلے گا جس کے لیے فنڈنگ ہو رہی ہے اور اس کا نصاب بھی وہیں سے آئے گا خواہ وہ یہاں والے کیوں نہ بنا رہے ہوں، اور ذریعۂ تعلیم بھی وہی زبان ہوگی جسے فنڈنگ دینے والے قبول کرتے ہیں۔ یہاں اس بارے میں جو کچھ کیا اور کرایا جاتا ہے اور جذبات ابھارے اور جذبات سے کھلواڑ کیا جاتا ہے یہ بھی سب کا … Continue reading ہم کہاں کھڑے ہیں؟ – حافظ صفوان

اسلام دعوت سے ریاست تک – حافظ صفوان

“سرزمینِ ہند میں پوسٹ کالونیل ازم” کے موضوع پر کافی دن سے بات چل رہی ہے۔ دل میں ایک پھریری آئی کہ میں بھی اس موضوع پر اپنے ذہن میں موجود باتیں پیش کر دوں تاکہ لوگوں کے بہتر اور عالمانہ خیالات سے کچھ سیکھ سکوں۔ میری رائے میں invaders (درانداز) کو مذہبی اور سیکولر کے خانے میں بانٹنا صرف اپنے آپ کو دھوکہ دینے والی بات ہے۔ مسلم نوآبادیات قائم کرنے والے درانداز اگر جہاد کے نعرے کے تحت آئے جو ان کا مذہبی سٹنٹ تھا، اور یورپی نوآبادی قائم کرنے والے درانداز برطانوی بادشاہت کے پروانے کے ساتھ … Continue reading اسلام دعوت سے ریاست تک – حافظ صفوان

حورعین اور جنت کے نظارے

لیاقت علی ایڈووکیٹ 1970 کی دہائی میں ٹرین اور بس کے ذریعے سفر کرتے ہوئےجس شہراور قصبے سے گذرہوتا وہاں کے مکانوں اور سرکاری عمارتوں کی دیواروں پر ایک کتاب۔۔۔۔ موت کا منظر معہ مرنے کے بعد کیا ہوگا از خواجہ محمد اسلام (واضح رہے کہ یہ کتاب مولانا عاشق الٰہی بلند شہری کی تصنیف ہے) کا اشتہار لکھا ضرور پڑھنے کو ملتا تھا ۔ بعد ازاں مختلف گھروں کی الماریوں میں بھی اس کتاب کو پڑے دیکھا لیکن پڑھنے کی توفیق کبھی نہ ہوئی۔ دوہفتے قبل یہ کتاب فٹ پاتھ پرپڑ ی ملی توسوچا کیوں نہ اس کا بھی … Continue reading حورعین اور جنت کے نظارے

نام بگاڑنا درست نہیں ہے

جیسے کسی شخص کا نام بگاڑنا درست نہیں ہے؛ ایسے ہی کسی گروہ کا نام بگاڑنا بھی درست نہیں۔توجہ کیجیے:اہلِ حدیث کو “وہابی” کہنا نا درست ہے کہ وہ یہ لقب پسند نہیں کرتے۔عمومِ اہل سنت کو “ناصبی” کہنا درست نہیں ہے کہ وہ یہ لقب اپنے لیے مناسب نہیں جانتے۔اہلِ تشیع کو “رافضی” کہنا، ٹھیک نہیں ہے کہ یہ اُن کی دانست میں، اُن کے دشمنوں کا دیا ہوا لقب ہے۔اسی طرح درست لفظ مسیحی ہے نہ کہ “عیسائی”۔درست لفظ احمدی ہے نہ کہ “قادیانی”۔اسی طرح درست لفظ “پارسی” ہے نہ کہ مجوسی۔ہم کسی فرد یا گروہ کا درست … Continue reading نام بگاڑنا درست نہیں ہے

اہلِ سنت والجماعت کی لغوی سند

.ملا علی قاری نے شرح فقہ اکبر میں لکھا ہے کہ شیخ ابوالحسن اشعری معتزلہ کے بہت بڑے مبلغ تھے، اپنے استاد سے اختلاف کرکے معتزلہ مذہب چھوڑ دیا اور ان کے رد پر کمربستہ ہوگئے۔ ان کا رد انھوں نے سنت کے ذریعہ کیا اور اپنی جماعت کا نام اہلِ سنت والجماعت رکھا۔ انھوں نے یہ جماعت شیعہ کے مقابلہ میں نہیں بلکہ معتزلہ کے مقابلہ میں بنائی تھی۔ معتزلہ اکثر حنفی المذہب ہوتے تھے لیکن دوسرے مذاہب کے لوگ بھی معتزلہ ہوتے تھے۔ خود ابوالحسن اشعری شافعی المسلک تھے۔ چنانچہ اہلِ سنت والجماعت کے باقاعدہ نام سے سب … Continue reading اہلِ سنت والجماعت کی لغوی سند