کربلا کے بارے میں گھڑی گئی سازشی تھیوریاں اور آلِ صدیقؓ کی سیرت ۔حمزہ ابراہیم

”سازشی تھیوری“ حالات و واقعات کی ایسی تشریح کو کہا جاتا ہے جس میں اصل اسباب کو چھپانے کے لیے تاریخ کے مستند حصوں پر پردہ ڈالا جاتا ہے اور مبہم حصوں اور کمزور روایات ڈھونڈ کر سارے تاریخی عمل کو متاثرین ہی کی سازش کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ عموماً یہ سازشی تھیوری صرف نظریاتی تعصب کے شکار مریدوں کی تشفی کے کام آتی ہے اور علمی اور عوامی حلقوں میں نتائج دینے سے قاصر رہتی ہے۔ کربلا کے معاملے میں ڈاکٹر اسرار احمد اور غلام احمد پرویز وغیرہ جیسے ناصبی حضرات کے بیانیے کا یہی حال ہے۔ … Continue reading کربلا کے بارے میں گھڑی گئی سازشی تھیوریاں اور آلِ صدیقؓ کی سیرت ۔حمزہ ابراہیم

بنو قریظہ ۔ فسانہ اور حقیقت ۔ ڈاکٹر طفیل ہاشمی

مدینہ کے تین بڑے یہودی قبائل میں سے بنو قینقاع اور بنو نضیر کی بدعہدی کے نتیجے میں جلاوطنی کے بعد یہی ایک قبیلہ مدینہ میں رہ گیا تھا۔ بنو نضیر مدینہ چھوڑ کر خیبر میں آباد ہوگئے، اپنی تمام منقولہ جائیداد ساتھ لے گئے تھے۔ وہاں پہنچ کر ان کے رئیس حیی بن اخطب نے مسلمانوں سے انتقام لینے کا بیڑا اٹھایا اور سارے عرب کے غیر مسلم، غیر معاہد قبائل کو مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے تیار کیا اور تمام جنگی اخراجات اور نقصانات کی تلافی کا معاہدہ کر کے ابوسفیان کی قیادت میں دس ہزار فوج … Continue reading بنو قریظہ ۔ فسانہ اور حقیقت ۔ ڈاکٹر طفیل ہاشمی

آیت الله خمینی اور آیت اللہ مطہری کی زبانی حضرت عمرؓکے فضائل کا بیان۔حمزہ ابراہیم

متعدد شیعہ علماء اور سکالرز نے اپنی کتب اور تقاریر میں خلفاۓ راشدین کی مدح کی ہے، اور اگرچہ وہ خاتم الخلفاء حضرت علی کو افضل الخلفاء اور خلافت کا صحیح حقدار مانتے ہیں لیکن خلفاۓ راشدین کے طرز حکومت کوبطور کلی اسلامی سمجھتے ہیں اور ان کے معاملے کو طلقاء (فتح مکہ کے موقع پر آزاد کردگان) کی حکومت سے جدا رکھتے ہیں۔ اسی طرح اصحاب رسول میں مہاجرین و انصار کو صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان ہونے والوں سے افضل سمجھتے ہیں۔ آیت الله خمینی اور آیت اللہ خوئی جیسے بڑے شیعہ محققین یہی موقف رکھتے ہیں۔ لیکن … Continue reading آیت الله خمینی اور آیت اللہ مطہری کی زبانی حضرت عمرؓکے فضائل کا بیان۔حمزہ ابراہیم

دار العلوم دیوبند کا موقف

مطلب یہ کہ یہ مذہبی اور اعتقادی سے زیادہ سیاسی مسئلہ ہے (استفسار میں شیعہ کے پیچھے نماز پڑھنے کے جس واقعے کا ذکر ہے، وہ مولانا فضل الرحمن کا نہیں، بلکہ مولانا محمد خان شیرانی کا تھا) — عمار خان ناصر Continue reading دار العلوم دیوبند کا موقف

مذہب کی آڑ میں فتح – علامہ اقبال کا موقف

یہ معروف مستشرق ڈاکٹر آر اے نکلسن کے نام علامہ اقبال کے چوبیس جنوری ۱۹۲۱ کو لکھے گئے خط سے اقتباس ہے جس میں وہ ’’اسلامی فتوحات’’ سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس کی اہمیت ایک تو اس لیے ہے کہ یہ اقبال جیسے تہذیبی خود اعتمادی رکھنے والے مفکر کے خیالات ہیں اور دوسرے اس لیے کہ اس سے دور جدیدیت میں مسلمانوں کے تاریخی شعور کی پیچیدگیوں پر روشنی پڑتی ہے۔ اس مختصر اقتباس میں اقبال نے ایک طرح سے پوری اسلامی تاریخ پر ایک تبصرہ کر دیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں، پھر اس کے … Continue reading مذہب کی آڑ میں فتح – علامہ اقبال کا موقف

“The Ark of Salvation” Imam Hussain, an art exhibition in Rome, Italy

“The Ark of Salvation” Imam Hussain, an art exhibition in Rome Italy dedicated to the Passion of Ashura /Arbaeen in Islam and Christianity with the internationally renowned Iranian artist Hassan Ruholamin. After having held exhibitions in Paris and Berlin, he presented five of his new unpublished works for the Italian public. The first objective of the event was the reach of Ashura’s message to Italians through artistic expressions closer to their culture and mindset. A great result was obtained through the presence of many Italians, several of whom non-Muslims, who participated in the event. An arrow through the eyes. Three … Continue reading “The Ark of Salvation” Imam Hussain, an art exhibition in Rome, Italy

مولانا طارق جمیل کادردمندانہ بیان – قرآن اور اہلبیت اسلام کی اساس ہیں

مولانا طارق جمیل کادردمندانہ بیان صحیح حدیث کی روشنی میں – قرآن اور اہلبیت اسلام کی اساس ہیں – فرقہ واریت سے بچو، قرآن، عشق رسول اور عشق اہلبیت پر تمام مسلمان اکٹھے ہو جاؤ، ایک دوسرے سے حسن سلوک کرو، معمولی اور فروعی اختلافات پر توجہ نہ دو، اپنے مسلک کی بجائے اسلام کی خدمت کرو Continue reading مولانا طارق جمیل کادردمندانہ بیان – قرآن اور اہلبیت اسلام کی اساس ہیں

شہادت کے بعد – ڈاکٹر علی شریعتی کے نایاب لکچر کا اردو ترجم

Urdu translation of Dr Ali Shariati’s lecture in Iran on 11 Muharram 1392 AH (26 Feb 1972) on the topic: “In the aftermath of Imam Hussain’s martyrdom”. It has a universal message of self-sacrifice and struggle for collective good, freedom and honor. Continue reading شہادت کے بعد – ڈاکٹر علی شریعتی کے نایاب لکچر کا اردو ترجم