حقیقت امام حسین رضی اللہ عنہ – محمد عامر حسینی

عشرہ محرم کا جیسے ہی آغاز ہوتا ہے بلکہ جیسے ہی رجب المرجب کی وہ تاریخ سامنے آتی ہے جب حضرت امام حسین بن علی ابن ابی طالب (اللہ ان کا فیض جاری و ساری رکھے) نے احرام حج کھولا اور اپنے 72 ساتھیوں اور جملہ اہل بیت اطہار ماسوائے چند ایک کے ساتھ عازم کوفہ ہوئے تھے تو خصوصیت کے ساتھ ذکر امام حسین رضی اللہ عنہ شروع کردیا جاتا ہے۔اس سفر کربلاء کے ایک ایک پل کا تذکرہ کیا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ ان لمحات بارے جتنی تفصیل تواریخ میں موجود ہے اس کو ازسرنو تازہ کرنے … Continue reading حقیقت امام حسین رضی اللہ عنہ – محمد عامر حسینی

تکفیری فاشزم، مفہوم، اصطلاح اور رد – عامر حسینی

بعض دوست اب بھی تکفیری فاشزم کو جیو پالیٹکس اور علاقائی پراکسی وارز سے آگے جاکر دیکھنے کو تیار نہیں ہیں۔اہل تشیع اور اہل سنت کے اندر یہ لوگ دیسی کمرشل لبرل مافیا اور تکفیریت کے حامیوں کی غلط مساوات اور گول مول موقف سے متاثر ہوکر تکفیری فاشزم کو فرقہ پرستانہ لڑائی تک قرار دینے سے گریز نہیں کرتے۔ لیکن مڈل ایسٹ میں جنھوں نے اس فاشزم کو اپنی آنکھوں سے تباہی مچاتے دیکھا ہے انھوں نے اس بارے درست موقف اختیار کیا۔ناھض حتر اردن کے ایسے ہی عرب کرسچن ترقی پسند دانشور تھے ۔یہ وہ مظلوم دانشور تھے … Continue reading تکفیری فاشزم، مفہوم، اصطلاح اور رد – عامر حسینی

کیا قیام امام حسین قبائلی جنگ کا تسلسل تھا؟ – عامر حسینی

کچھ لوگ 61 ھجری کو رونما ہونے والے واقعہ کربلاء کے بارے میں تکفیری مکتب فکر سے نمودار ہونے امیہ پرست نظریہ ساز مولوی حسین پھجرواں، مولوی غلام اللہ خان،مولوی عبداللہ چکڑالوی اور ان کے شاگرد معنوی مولوی عبداللہ والد مولوی عبدالعزیز، محمود عباسی کی پیروی کرتے ہیں اور ایسے ظاہر کرتے ہیں جیسے انھوں نے ‘آزادانہ تحقیق’ کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا: ‘کربلاء میں جو ہوا وہ بنو ہاشم اور بنو امیہ کے درمیان ماقبل اسلام سے پہلے چلی آرہی لڑائی کا نتیجہ تھا۔’ ایسے لوگ چند جدیدیت پرستوں کی اصطلاحیں استعمال کرتے ہیں۔ ان کا یہ دعوی … Continue reading کیا قیام امام حسین قبائلی جنگ کا تسلسل تھا؟ – عامر حسینی

واقعہ کربلا: دور بنو امیہ میں رثائی و مزاحمتی شاعری کا قتل – عامر حسینی

واقعہ کربلاء پہ رثائی نثر اور رثائی نظم جسے عرب والے رثاء الحسین کہتے ہیں لکھنا کبھی بھی آسان کام نہیں رہا۔ پہلی صدی ہجری/ساتویں صدی عیسوی میں جب 61ھجری کو واقعہ کربلاء جسے عرب مورخ ‘واقعہ الطف /ذبح عظیم بھی کہتے ہیں جب واقع ہوگیا تو اس کے بعد اس موضوع پہ رثائی ادب تخلیق کرنا اپنے موت کے پروانے پہ دستخط کرنے کے مترادف تھا۔ واقعہ کربلاء کو ‘عرب حافظے’ سے نکالنے کے لیے بہت سے پاپڑ بنو امیہ کی اسٹبلشمنٹ نے پیلے۔ اور یہ پاپڑ بعد میں بنوعباس نے بھی پیلے۔ تاریخ کے باب میں اس واقعے … Continue reading واقعہ کربلا: دور بنو امیہ میں رثائی و مزاحمتی شاعری کا قتل – عامر حسینی

عقیدے کی بنیاد پہ دہشت گردی، تکفیری فاشزم اور کمرشل لبرل مافیا – عامر حسینی

ایک عام آدمی اگر کلیشوں کا شکار ہو تو سمجھ آتی ہے اور اسے سمجھانے کی کوشش بھی کی جاسکتی ہے۔ لیکن ایک وسیع معلومات رکھنے والا آدمی سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی حقائق سے ہٹ کر کلیشے بیان کرے اور ابہام سے بھرا بیانیہ دے تو پھر یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ ضروری طور پہ حقیقت سے فرار اختیار کررہا ہے۔ سری لنکا میں مسیحی تہوار ایسٹر کی دعائیہ تقریبات کے موقعہ پہ کولمبو میں ایک مسیحی مزار، دو چرچ اور تین ہوٹلوں کو آٹھ بم دھماکوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سری لنکن پولیس کے مطابق جس … Continue reading عقیدے کی بنیاد پہ دہشت گردی، تکفیری فاشزم اور کمرشل لبرل مافیا – عامر حسینی

اکبر بادشاہ اور جین مت – عامر حسینی

اکبر بادشاہ کو بچپن سے جانوروں سے بہت اُنس تھا اور یہی انس اتنا شدید ہوا کہ اس نے حتی الامکان کوشش کی کہ جانوروں کی جان نہ لی جائے اور اسے جانوروں، چرند، پرند یہاں تک کہ حشرات الارض کو نقصان نہ پہنچانے کا عقیدہ رکھنے والا مذھب جین مت بہت پسند آیا سریندر پال نے جین مت کے ماننے والوں کی ہندوستان میں آبادی کے بارے میں لکھا ہے پندرھویں صدی میں لکھا گیا ایک تذکرے سے پتا چلتا ہے کہ جین برادری کے لوگ مالوہ، سندھ، ہریانہ اور پنجاب میں بھی رہتے تھے- ہمیں اسی تذکرے سے … Continue reading اکبر بادشاہ اور جین مت – عامر حسینی

رنجیت سنگھ پنجابی اور سرائیکیوں کی نفسیات میں مختلف امیج کیوں رکھتا ہے؟ – عامر حسینی

رنجیت سنگھ ہو یا راجا داہر یا راجا پورس ہو یا جسے آج انڈین سب کانٹی نینٹ کہا جاتا ہے اس کے کوئی اور مقامی حکمران، راجے، مہاراجے ہوں یہ سارے کے سارے ایک دوسرے کے علاقوں کو اپنی سلطنت کا حصہ بنانے یا اُن سے بیاج اور تاوان وصول کرنے کے لیے حملے کرتے رہتے تھے اور جب یہ دیسی و مقامی رجواڑے یا سلطنتیں ایک دوسرے سے تصادم میں آتی تو ہر دو اطراف سے خون بہایا جاتا، کمزور طبقات سب سے زیادہ متاثر ہوتے، عورتیں، بچے، بوڑھے اس کا شکار بنتے اور مخالف کی عبادت گاہوں پر … Continue reading رنجیت سنگھ پنجابی اور سرائیکیوں کی نفسیات میں مختلف امیج کیوں رکھتا ہے؟ – عامر حسینی

کس کے تھے وہ علم کے موتی؟ – عامر حسینی

جب میں شفیق این ویرانی کی کتاب ‘قرون وسطیٰ میں اسماعیلی: بقاء و تلاش نجات کی تاریخ’ پڑھ رہا تھا تو اس کے باب پنجم میں شفیق این ویرانی نے فاطمی خلیفہ و امام معز کا واقعہ درج کیا کہ کیسے وہ کتابوں سے محبت کرتا تھا اور فاطمی سلطنت کا شاہی کُتب خانہ کس قدر وسیع و عریض تھا اور کیسے یہ کُتب خانہ افریقی سوڈانی سپاہیوں اور ترک سپاہیوں کے درمیان ایک بڑے تصادم کے نتیجے میں لوٹ مار اور آتش زنی کا شکار ہوا- ترک اور بربر سوڈانی افریقی سپاہیوں نے جن میں سے اکثریت لواطہ بربر … Continue reading کس کے تھے وہ علم کے موتی؟ – عامر حسینی

میاں چھنولال دلگیر: برصغیر کی روادار روایت کا ترجمان – عامر حسینی

لکھنؤ میں نخاس بازار کو شہر کا سب سے قدیم ترین بازار کہا جاتا ہے- اور اس ایک بازار میں کئی بازار جمع ہیں- اسی کے اندر ایک بازار ‘چڑی بازار’ کہلاتا ہے- اس بازار میں پالتو پرندوں کی خرید و فروخت کا کاروبار ہوتا ہے- یہیں پر ایک قبر ہے جسے سب ‘ٹیڑھی قبر’ کے نام سے جانتے ہیں- اور اسے ‘مرد شہید’ کا مزار بھی کہا جاتا ہے- اور جہاں سب ہی مذاہب کے ماننے والے حاضری دیتے اور اظہار عقیدت کرتے ہیں- پروفیسر مظہر نقوی کے بقول یہ قبر اصل میں مشہور و معروف مرثیہ نگار( لالہ … Continue reading میاں چھنولال دلگیر: برصغیر کی روادار روایت کا ترجمان – عامر حسینی

پریم چند کا ڈرامہ کربلا پڑھو میاں- عامر حسینی

یا رب کوئی معصومہ زنداں میں نہ تنہا ہو پابند نہ ہوں آہیں،رونے پہ نہ پہرا ہو ……… اب آئے ہو بابا ۔۔۔۔ وہ کربلا، وہ شام غریباں ہائے وہ تیرگی وہ زینب حزیں،وہ حفاظت خیام کی آیا وہ اک سوار قریب خیام شاہ بیٹی علی کی غیض میں سوئے فرس بڑھی الٹی نقاب چہرے سے اپنے سوار سے پیش نگاہے زینب مظلوم تھے علی ہرچند صابرہ تھی بہت بنت فاطمہ بے ساختہ زباں پر فریاد آگئی اب آئے ہو بابا زینب نے کہا باپ کے قدموں سے لپٹ کر آپ جب کربلا والوں کو مرکز وحدت کہیں، امام حسین … Continue reading پریم چند کا ڈرامہ کربلا پڑھو میاں- عامر حسینی