داعش، اوریا مقبول جان اور نیم خواندہ نوجوان ۔حمزہ ابراہیم

اپریل 2017 میں لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ اور ایک اعلی تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی کی لاہور سے گرفتاری کی خبر نے پورے ملک کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ۔نورین نامی اس سادہ لڑکی نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر ایک دہشتگرد سے شادی کر لی اور گھر والوں کو یہ پیغام بھیجا کہ وہ شام جا چکی ہے۔وہ اپنے نئے نویلے دولہا کے ساتھ بقیہ زندگی گزارنے کی بجائے لاہور میں مسیحی حضرات کی مذہبی تقریب میں دھماکہ کرنا چاہ رہی تھی کہ خفیہ اداروں کے آپریشن میں گرفتار ہو گئی۔ ایسا کیوں ہوا؟ … Continue reading داعش، اوریا مقبول جان اور نیم خواندہ نوجوان ۔حمزہ ابراہیم

مجدد الف ثانی اور شاہ ولی الله کی میراث کیا ہے؟ (ڈاکٹر مبارک علی) ۔۔حمزہ ابرا ہیم

ہندوستان میں مسلمان حکمران خاندانوں کے دورِ حکومت میں علماء حکومتی اداروں کی مدد سے اس بات کی کوشش کرتے رہے کہ مسلمان معاشرے میں راسخ العقیدتی کی جڑیں مضبوط رہیں تاکہ اس کی مدد سے وہ اپنے اثر و رسوخ کو باقی رکھ سکیں۔ حکومتوں نے علماء کا تعاون حاصل کرنے کی غرض سے جہاں انہیں حکومتوں کے اعلیٰ عہدوں (قاضی، حکیم وغیرہ)پرفائز کیا، وہاں اس کے ساتھ انہیں ”مدد ِمعاش“ کے نام سے جاگیریں دے کر معاشی طور پر خوش حال رکھا۔ اس لیے علماء اور حکومت کے درمیان مفاہمت اور سمجھوتے کے جذبات قائم رہے اور انہوں … Continue reading مجدد الف ثانی اور شاہ ولی الله کی میراث کیا ہے؟ (ڈاکٹر مبارک علی) ۔۔حمزہ ابرا ہیم

سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کی جہاد تحریک کی حقیقت کیا ہے؟ (ڈاکٹر مبارک علی ۔۔حمزہ ابراہیم

سید احمد شہید 1786ء میں بریلی میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم کے بعد 18سال کی عمر میں ملازمت کی تلاش میں نکلے اور لکھنؤ آئے مگر انہیں ناکامی ہوئی اور ملازمت نہ مل سکی ۔ اس پر انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے دہلی میں شاہ عبدالعزیز کے مدرسے میں تعلیم حاصل کریں گے۔ 1806ء سے 1811ء تک انہوں نے دہلی میں قیام کیا ، اس کے بعد 25سال کی عمر میں امیر خان ،جو کہ ایک فوجی مہم جُو تھے، کے ہاں ملازمت کرلی۔ اس سلسلے میں ان کے سیرت نگار یہ کہتے ہیں … Continue reading سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل دہلوی کی جہاد تحریک کی حقیقت کیا ہے؟ (ڈاکٹر مبارک علی ۔۔حمزہ ابراہیم

پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی و عدم برداشت کی تاریخ، وجوہات اور ان کا تدارک۔حمزہ ابراہیم

اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ موجودہ زمانہ برصغیر میں مذہبی تشدد کے لحاظ سے بدترین ہے۔ساٹھ اور ستر کی دہائی میں کراچی کے کلفٹن جیسے علاقوں میں کچھ لوگوں کی شراب نوشی کی تصویریں دیکھ کر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ماضی میں پورا پاکستان ایسا تھا۔ اگرچہ کلاشنکوف اور بم کے عام ہو جانے سے شیعہ کشی کی وارداتیں بہت بڑھی ہیں، لیکن شیعہ اور سنی عوام میں تناؤ کے لحاظ سے عروج کا زمانہ پچھلی صدی کا پہلا نصف حصہ تھا۔ اس کے بعد سے یہ تعلقات بہتری کی طرف مائل ہیں۔تاریخی عمل سست ہوتا ہے اسلئے … Continue reading پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی و عدم برداشت کی تاریخ، وجوہات اور ان کا تدارک۔حمزہ ابراہیم

Syria’s Grand Mufti discusses Peaceful coexistence, non-sectarian and Inclusive Syria with Eva Bartlett

DAMASCUS, SYRIA — On October 2, 2018, I met with the Grand Mufti of Syria, Dr. Ahmad Badr Al-Din Hassoun, a scholar and the highest official of Islamic law in Syria, who assumed the position of grand mufti in 2005. Dr. Hassoun’s (archived) website notes that in addition to his title of grand mufti, his other positions include, “Chairman of the Media Committee of the Higher Consultative Council for the Rapprochement between the Islamic Schools of Thought, Islamic Educational, Scientific and Cultural Organization.” Essentially meaning that the mufti focuses on interfaith, and inter-sect, dialogue. His speeches routinely focus on the theme of rapprochement … Continue reading Syria’s Grand Mufti discusses Peaceful coexistence, non-sectarian and Inclusive Syria with Eva Bartlett

وحدت کا رستہ اور تنقید کے تیر – مفتی گلزار نعیمی

ہم کدھر جائیںجب سے محرم شروع ہوا ہے۔ہر روز فیس بک پر میسنجر پر سیل نمبر پر بیسیوں لوگ سوالات کرتے ہیں کہ جو امھات المومنین اور خلفاء اور صحابہ کو سب و شتم کرے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو خدائی مقام تک لے جائے ایسے لوگوں کے بارے میں آپکی کیا رائے ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ لوگ یہ سوال نہیں کرتے کہ دین اس بارے میں کیا کہتا ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ آپ کیا کہتے ہیں ۔۔یا للعجب۔۔!!!اس حوالے سے میرا وہی موقف ہے جو ہمارے اکابر علمائے اہل سنت کا ہے۔میں نے اس … Continue reading وحدت کا رستہ اور تنقید کے تیر – مفتی گلزار نعیمی

عدم تشدد کا رستہ پائیدار رستہ – ایک سچی کہانی

یہ 1990 کی دہائی کا آغاز ہے ، قومی افق پر چار تنظیمیں ابھر کر سامنے آ رہی ہیں ،١. انجمن سپاہ صحابہ (بعد میں سپاہ صحابہ پاکستان بنی اور پھر کالعدم ہو گئی)٢۔ لشکر طیبہ (بعد ازاں جماعت الدعوی اور پھر کالعدم)٣. ایم کیو ایم (عملی طور پر شکست ور ریخت اور کالعدم)٤. منہاج یوتھ لیگپہلی تین تنظیموں نے عمومی طور پر تعلیمی اداروں سمیت عوامی ، مذہبی و سیاسی میدان میں اسلحہ کی طاقت اور بدمعاشی کے زور پر چھا جانے کی حکمت عملی اختیار کی –کوئی صحابہ کے نام پر مخالف فرقے کو اسلام سے نکالنے کی … Continue reading عدم تشدد کا رستہ پائیدار رستہ – ایک سچی کہانی

Wahhabi Islam never existed in pre-colonial world – Shaykh Khaled Abou el Fadl

Khaled Abou el Fadl is the Omar and Azmeralda Alfi Distinguished Professor of Law and Islamic studies at the University of California. He has lectured on and taught Islamic law in the United States and Europe in academic and non-academic environments since approximately 1990. Abou El Fadl holds a B.A. in Political Science from Yale University, a J.D. from the University of Pennsylvania Law School, and an M.A. and Ph.D. in Islamic law from Princeton University. Abou El Fadl also has 13 years of instruction in Islamic jurisprudence, grammar and eloquence in Egypt and Kuwait. After law school, he clerked … Continue reading Wahhabi Islam never existed in pre-colonial world – Shaykh Khaled Abou el Fadl

Message for religious tolerance by Ali Raza Abidi Shaheed

An important message for religious tolerance by Pakistani parliamentarian Ali Raza Abidi. He recorded this message on the new year eve at the start of 2018. A few months later, he was killed on Christmas Day 2018 in Karachi by Takfiri Islamist militants. Abidi was a leading voice for interfaith harmony in Pakistan. In his message, Abidi pledged to work against extremism and for interfaith harmony. Continue reading Message for religious tolerance by Ali Raza Abidi Shaheed

تکفیری ملا روضہ رسول کے سبز گنبد کومسمار کرنا چاہتا ہے

اس تکفیری خارجی ملا کی سوچ کو مکمل رد کرتے ہیں اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مکمل تکریم و احترام کے قائل ہیں، اسی خارجی نظریے نے جنت البقیع میں حضرت فاطمہ رضی الله عنہا اور حضرت عثمان رضی الله عنہ کے روضہ ہائے مبارک کو تباہ کیا، یہی سوچ مزارات مقدس پر حملے اور بم دھماکے کرتی ہے Continue reading تکفیری ملا روضہ رسول کے سبز گنبد کومسمار کرنا چاہتا ہے