اس سے قبل ان کے خاندان کے تیرہ افراد خوارج کی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں

ملک دشمن تکفیری خوارج طالبان سپاہ صحابہ کی ایک اور دہشت گردی۔ سوات کی ممتاز شخصیت جاوید اللہ خان ٹارگٹ کلنگ میں شہید- اس سے قبل ان کے خاندان کے تیرہ افراد خوارج کی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں لہ طالبان، سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی، داعش اور اس قبیل کے دیگر تکفیری خوارج ہر فرقے، مذہب اور لسانی گروہ کے دشمن ہیں اور انسانیت کے لیے زہر قاتل ہیں
—-
سوات: شدت پسندی کی نذر ہونے والے اپنے خاندان کے چودہویں فردمحمد زبیر خانصحافی27 فروری 2020
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بنے والے سماجی کارکن، صحافی اور امن کمیٹی کے رکن جاوید اللہ خان اپنے خاندان کے چودھویں فرد ہیں جنھیں نامعلوم افراد نے گذشتہ روز ٹارگٹ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔
جاوید اللہ خان کا تعلق سوات کے علاقے شکردرہ کے یوسفزئی قبیلے سے ہے۔ ان کا تعلق اس علاقے سے ہے جس کے بارے میں تصور کیا جاتا ہے کہ وہاں سوات طالبان کافی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
اس سے پہلے سوات سے تعلق رکھنے والے اس با رسوخ خاندان کے 13 افراد کو گزشتہ سولہ برس میں شدت پسندوں نے حملے کر کے ہلاک کیا ہے۔

ڈی ایس پی مٹہ سوات محمد شوکت نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جاوید اللہ خان ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے ہیں۔ یہ دھشت گردی کا واقعہ ہے۔ اس خاندان کے پہلے بھی کئی افراد دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ جاوید اللہ خان امن کمیٹی کے ممبر بھی تھے۔‘

پولیس نے اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ ان کے بقول پولیس کو کچھ شواہد بھی ملے ہیں۔
پولیس کے مطابق جاوید اللہ خان دریائے سوات کے کنارے شکردرہ میں اپنے کھیتوں سے گھر واپس جارہے تھے کہ ان کو دو نامعلوم افراد نے کاڑکوٹوں کے مقام پر ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی جس سے جاوید اللہ موقع ہی پر ہلاک ہوگئے۔ جاوید اللہ خان کی سیکورٹی پر مامور پولیس سیکورٹی گارڈ رحیم اللہ خان نے بھی جوابی فائرنگ کی تھی۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان روڈ شاہی کی طرف فرار ہوئے۔ جہاں پر انھوں نے ایک گاڑی کو اسلحے کی نوک پر روکا اور اس پر بیٹھ کر پہاڑ کی طرف فرار ہوگے۔
جاوید اللہ خان کون تھے؟
جاوید اللہ خان کے چچا زاد بھائی ڈاکٹرمحمد افتخار خان کے مطابق جاوید اللہ خان سوات میں آپریشن کے دوران فوج کے ساتھ مل کر کارروائیوں میں حصہ لیتے تھے۔ وہ ’نہ صرف اپنے گھر کے دروازے فوج کے لیے کھول دیتے تھے بلکہ لوگوں سے بھی کہتے تھے کہ فوج کا ساتھ دیں۔ فوج کے اہلکار ان کی تعریف کرتے تھے اور ان کو اپنا میجر قرار دیتے تھے۔ ‘
ڈاکٹر محمد افتخار خان کے مطابق ان کے والد محمد اقبال خان بھی شدت پسندی کی ایسی ہی کارروائی میں زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔ ’اس موقعے پر سیکورٹی اہلکاروں نے میرے والد محمد اقبال خان کی بہادری کے اعتراف میں ہمارے خاندان کو بہادری کا نشان کلاشنکوف دی تھی۔ یہ کلاشنکوف فوج کے افسران ہی کی خواہش پرجاوید اللہ خان نے ان سے وصول کی تھی۔ ‘
سوات پریس کلب کے جنرل سیکرٹری سعید الرحمن نے بتایا کہ جاوید اللہ خان کچھ عرصہ قبل ہی صحافت سے منسلک ہوئے ہیں۔ چند دن قبل ہی انھیں روزنامہ اوصاف اسلام آباد کا سوات سے بیورچیف مقرر کیا گیا ہے جبکہ اس سے قبل وہ مختلف بین الاقوامی اداروں کے لیے فری لائنس رپورٹنگ بھی کرتے رہے تھے۔
جاوید اللہ خان نے سوگواروں میں بیوہ اور دو کم سن بچے چھوڑے ہیں۔
سوات پریس کلب کے جنرل سیکرٹری سعید الرحمن نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ قتل سے دو روز قبل جاوید اللہ خان کے ساتھ ان کے گھر میں ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے دوران ہنستا مسکراتا جاوید اللہ خان کچھ پریشان تھا۔

’جاوید اللہ خان نے مجھے اور میرے ساتھ موجود سوات کے دیگر صحافیوں کو بتایا تھا کہ چند دن قبل ہی انھیں اور ان کے خاندان والوں کو اداروں اور پولیس نے اطلاع دی ہے کہ کچھ شر پسند عناصر سوات میں داخل ہوچکے ہیں۔ ان کا رخ شکردرہ کے علاقے کی طرف ہے۔ جس وجہ سے شبہ ہے کہ اس کا ٹارگٹ وہ یا ان کے خاندان کا کوئی اور فرد بھی ہوسکتا ہے۔ `
سعید الرحمن کا کہنا تھا کہ اس موقع پر ’جاوید اللہ خان نے ہمیں بتایا تھا کہ اداروں اور پولیس نے ان سے کہا ہے کہ اپنی حفاظت کا کچھ انتظام کرلیں۔‘
ڈاکٹر محمد افتخار خان کے مطابق سب جانتے ہیں کہ شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی اداروں کا ساتھ دینے پر ان کا گھرانہ نشانے پر ہے۔ ہر واقعہ سے پہلے ہمیں اطلاع دی جاتی ہے۔ جاوید اللہ خان کے واقعہ سے پہلے بھی ہمیں اطلاع فراہم کی گئی تھی۔
سوات پولیس ذرائع کے مطابق انھوں نے بھی جاوید اللہ خان کو حملے سے متعلق آگاہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اپنی نقل و حرکت کو محدود رکھیں۔