جاویداحمد غامدی کا امام مہدی بارے موقف

اپنی مختلف تحریروں اور تقریروں میں جاوید احمد غامدی نے امام مہدی کے وجود سے انکار کر کے نہ صرف صحیح احادیث کا انکار کیا بلکہ اس پورے تصور کو من گھڑت اور افسانہ قرار دے دیا –

امام مہدی کے ظہور کے بارے میں کثیر احادیث صحیحہ ثابت ہیں۔ صحاح ستہ کے علاوہ دیگر کتب احادیث میں مختلف اسناد سے امام مھدی کا ظہور ثابت ہے اور ساتھ ساتھ کئی ایک سلف کے اقوال بھی موجود ہیں۔ رسول اللہ فرماتے ہیں: ’’یکون فی آخر امتی خلیفة یحثی المال حثیا ولا یعدّہ عدّاً‘‘ ’’میری امت کے آخر میں ایک خلیفہ ہوگا جو (لوگوں میں) گنے بغیر مال تقسیم کرے گا۔‘‘ (صحیح مسلم: ۲۹۱۳)
سیدنا ابو سعید الخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’یخرج فی آخر امتی المھدی، یسقیہ اللہ الغیث وتخرج الارض نباتھا ویعطی المال صحاحا وتکثر الماشیة وتعظم الامة یعیش سجا او ثمانیا یعنی ححجا‘‘ – ’’میری امت کے آخر میں مھدی آئے گا جس کے لیے اللہ تعالیٰ بارشیں نازل فرمائے گا اور زمین اپنے نباتات اگلے گی عدل و انصاف سے مال تقسیم کرے گا ، مویشی زیادہ ہو جائیں گے اور امت کا غلبہ ہوگا وہ (اپنے ظہور کے بعد) سات یا آٹھ سال زندہ رہے گا۔‘‘ (المستدرک للحاکم، ج۴، ص۵۵۸)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’المھدی منا اھل البیت یصلحہ اللہ فی لیلة‘‘ – ’’مھدی ہمارے اہل بیت میں سے ، اللہ اسے ایک ہی رات میں درست کر دے گا۔‘‘ (مسند احمد بن حنبل ، رقم: ۶۴۵)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’لا تذھب الدنیا ، اولا تنقضيي الدنیا متی یملک العرب رجل من اھل بیتی یواطئی اسمہ اسمی‘‘- ’’دنیا اس وقت تک ختم نہ ہوگی جب تک عربوں کا حاکم میرے اہل بیت سے ایک آدمی نہ بن جائے جس کا نام میرے نام جیسا (یعنی محمد) ہوگا۔‘‘ (سنن ابی داؤد، رقم: ۴۶۸۲، سنن الترمذی: ۶۶۳۰)

امام البیھقی (المتوفی ۴۵۸ھ) فرماتے ہیں۔ ’’والاحادیث فی التنصیص علی خروج المھدی اصح البتہ اسنادا‘‘ (تھذیب الکمال للمزی، ج۶، ص۵۹۷)- ظھور مھدی پر جو احادیث ہیں وہ صحیح ترین اسناد کے ساتھ ہیں۔
ابن تیمیہ (المتوفی ۷۲۸ ھ) فرماتے ہیں: ’’ان الاحادیث التی یحتج بھا علی خروج المھدی احادیث صحیحة رواھا ابو داؤد والترمذی واحمد وغیرھم‘‘ (منھاج السنة، ج۴، ص۴۱۱)- ’’ان احادیثِ صحیحہ ظھور مھدی پر جس سے حجت لی جاتی ہے اس کو روایت ابو داؤد ، ترمذی اور احمد نے کیا ہے۔‘‘