مسئلۂ تکفیر اور اہل سنت کا معتدل منہاج

طاہر اسلام عسکری سوال : میں نے لا علمی میں اباضی فرقے کے امام کی اقتدا نماز پڑھ لی تھی ؛ کیا ان کے پیچھے ادا کی گئی نماز دہرانی ہو گی ؟جواب : ان کے پیچھے نماز درست ہے ؛ دہرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ تمام مسلمان مکاتب فکر کے پیچھے نماز جائز ہے خواہ شیعہ ہوں یا خوارج ؛ حنفی ، شافعی مالکی ہوں یا حنبلی ؛ دیوبندی ، بریلوی ہوں یا اہل حدیث ۔ کیوں کہ اصول یہ ہے کہ جب تک کوئی گروہ مسلمانوں میں شامل ہے اور اس کو معین طور پر کافر نہیں … Continue reading مسئلۂ تکفیر اور اہل سنت کا معتدل منہاج

تکفیر اھل اسلام اور علامہ ابن تیمیہ کا آخری قول

علامہ ذہبی ، ابوالحسن اشعری کا کلام نقل کرنے کے بعد اپنے اور اپنے شیخ علامہ ابن تیمیہ کے بارے میں لکھتے ہیں : میں کہتا ہوں کہ میں اس طرز کو اپناتا ہوں اور اسی طرح ہمارے شیخ ابن تیمیہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں کہتے تھے کہ میں امت میں کسی کی تکفیر نہیں کرتا اور کہتے تھے کہ نبی کریم ع نے فرمایا :” وضو کی حفاظت مومن کے علاوہ کوئی نہیں کرتا ۔ ” تو جس نے وضو کے ساتھ نمازوں کو لازم کر لیا وہ مسلم ہے ۔ سیر اعلام النبلاء ۔ ج 3 … Continue reading تکفیر اھل اسلام اور علامہ ابن تیمیہ کا آخری قول

مولانا حسین احمد مدنی کی محمد بن عبد الوہاب نجدی بارے رائے سعودی وہابی مسلک کا بانی محمد بن عبد الوہاب نجدی ایک ظالم، فاسق و فاجر انسان تھا جو اہل سنت والجماعت کے لوگوں کا خون بہانا حلال سمجھتا تھا۔ مولانا حسین احمد مدنی، دار العلوم دیوبند – کتاب – شہاب الثاقب Continue reading

اکابرین دیوبند کی طرف سے انتہا پسندی اور وہابیت کی مذمت – تاریخی حقائق

حضرات علمائے دیوبند نے اپنی کتب میں باربار وہابی، سلفی اور سعودی نجدی عقائد کی زبردست تردید کی ہے ۔مثلاً مولانا خلیل احمد اینٹھوی دیوبندی (۱۸۵۲ء۔ ۱۹۲۷ء) لکھتے ہیں: ’’ ان کا ( محمد بن عبدالوہاب نجدی او ر اس کے تابعین) عقیدہ یہ ہے کہ بس وہ ہی مسلمان ہیں اور جو ان کے عقیدہ کے خلاف ہو وہ مشرک ہے اوراس بناء پر انہوں نے اہل سنت کا قتل مباح سمجھ رکھاتھا‘‘۔(المسند علی المفند، مطبوعہ کراچی صفحہ ۲۲) (نوٹ)۔۔۔اس کتاب پر شیخ الہند و شیخ الدیوبند مولانامحمود حسن(۱۸۵۱ء ۔ ۱۹۲۰ء) حکیم الامت دیوبند مولانا اشرف علی صاحب تھانوی … Continue reading اکابرین دیوبند کی طرف سے انتہا پسندی اور وہابیت کی مذمت – تاریخی حقائق

اہلبیت رضی الله عنہم سے دشمنی اور اکابرین اہلسنت کا موقف

مولانا ابو الحسن علی میاں ندوی مرحوم کی زیر نگرانی نکلنے والے ندوہ العلما لکھنو کے پندورہ روزہ ترجمان آرگن “تعمیرحیات، لکھنؤ” کی ۱۰ مارچ ۱۹۹۲ء کی اشاعت میں جناب عبداللہ عباس ندوی نے سانحہ کربلا پر چشم کشا مضمون لکھا ۔ عبداللہ عباس ندوی صاحب ، جو کہ اس وقت ندوۃ العلماء کے نگرانِ امتحان کے منصب پر فائز تھے، نے ناصبی ، تکفیری، خارجی مولوی عتیق الرحمٰن سنبھلی بن مولوی منظور نعمانی کی کتاب “واقعہ کربلا اور اسکا پس منظر” میں موجود ناصبیت اور عداوت اہلبیت رضی الله عنہم کے رد میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: “غزوۂ بدر … Continue reading اہلبیت رضی الله عنہم سے دشمنی اور اکابرین اہلسنت کا موقف

اہلسنت پر شیعہ یا رافضی ہونے کے الزام کا حربہ

اوائل اسلام سے نواصب اور خوارج کی کوشش ہے کہ فرقہ وارانہ تعصب پیدا کر کے مسلمانوں کو عشق رسول ﷺ اور محبت اہلبیت رضی الله عنہم سے دور کر دیں، اس ناپاک سازش سے ہوشیار رہیں ناصبی خارجی دشمنان اہلبیت رضی الله عنہم نے ان نیک طینت ، پاکباز علما اہلسنت بریلوی، دیوبندی اور اہلحدیث پر رافضیت اور شیعیت کا گھسا پٹا الزام لگایا – ان علماء کرام کا جرم؟ محبت ابلبیت رضی الله عنہم امام شافعی نے فرمایا کہ اگر آل محمد ﷺ سے محبت رفض ہے تو کائنات گواہ ہے کہ میں رافضی ہوں Continue reading اہلسنت پر شیعہ یا رافضی ہونے کے الزام کا حربہ

تکفیری فرقہ وارانہ تنظیموں کا مسلک دیوبند سےکوئی تعلق نہیں – مولانا فضل الرحمن

تکفیری فرقہ وارانہ تنظیموں کا مسلک دیوبند سےکوئی تعلق نہیں، یہ جمیعت علما اسلام کے خلاف اسٹبلشمنٹ کی سازش کا حصہ ہیں – مولانا فضل الرحمن تکفیری فرقہ وارانہ تنظیموں کا مسلک دیوبند سے کوئی تعلق نہیں، جو تنظیمیں صحابہ کرام رضی الله عنہم کے مقدس نام کو استعمال کر کے، اشتعال انگیز نعروں کے ساتھ کسی پر کفر کے فتوے لگاتی ہیں، ہمارے مدارس میں جو تنظیمیں (سپاہ صحابہ وغیرہ) فرقہ واریت اور جہاد کے نام پر وجود میں آ رہی ہیں، عدم برداشت اور تشدد کو فروغ دے رہی ہیں، ان کا فقط ایک ہی مقصد ہے، اسٹیبلشمنٹ … Continue reading تکفیری فرقہ وارانہ تنظیموں کا مسلک دیوبند سےکوئی تعلق نہیں – مولانا فضل الرحمن

مفتی محمود نے اہل تشیع کی تکفیر نہیں کی – مولانا فیاض خان سواتی

مفتی محمود نے اہل تشیع کی عمومی تکفیر نہیں کی، فرقہ پرست جماعت حقائق مسخ نہ کرے – مولانا فیاض خان سواتی کی تحریر مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے پچیس برس سن ۱۹۵۰ء سے سن ۱۹۷۵ء تک تقریباً بائیس ہزار فتاویٰ جاری فرمائے ، جو ’’ فتاویٰ مفتی محمودؒ ‘‘ کے نام سے شائع ہو رہے ہیں ، ان کے بارہ میں ، میں نے کچھ عرصہ پہلے ’’ فتاویٰ مفتی محمودؒ ‘‘ کے عنوان سے ایک تفصیلی پوسٹ لکھی تھی ، جس سے احباب کو بہت فائدہ ہوا تھا ، آج کل پھر اس مسئلہ کو (ایک … Continue reading مفتی محمود نے اہل تشیع کی تکفیر نہیں کی – مولانا فیاض خان سواتی